کسی عالم کا داماد کو باپ کی دوکان سے چوری کی تلقین کرنا
سوال
ایک اہل علم حدیث کے پڑھانے والے اپنے داماد سے کہا کرتے ہیں کہ تم اپنے والد چچا وغیرہ کی دوکان سے روزانہ چوری سے نکال کر علیحدہ جمع کیا کرو تا کہ تمہارے کام آوے۔ کیوں کہ والد چچا وغیرہ کا مال اپنا مال ہوتا ہے تم بھی ان کی دوکان پر رہتے ہو کمائی کرتے ہو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، ایسے ہی یہ بھی فرمایا کہ اگر بیوی خاوند کی کوئی چیز چوری سے نکال لے تو بھی کوئی حرج نہیں۔ (۱) باوجود اہل علم حدیث پڑھانے کے چوری کی ترغیب و تلقین دینا کیسا ہے۔ ایسے شخص کو ظالم فاسق فاجر کہہ سکتے ہیں یا نہیں۔ (۲)
جواب
یہ سوال اس سے پہلے بھی آیا تھا اس کا جواب تحریر کر دیا گیا۔ مگر اس میں صورت واقعہ لکھ کر سوال صرف لڑکے کے روکنے کا تھا۔ چنانچہ اس کے جواب پر اکتفاء کیا گیا تھا۔ اب دو باتیں اور دریافت کی ہیں ایک یہ کہ باوجود اہل علم، حدیث پڑھانے کے چوری کی تلقین و ترغیب دینا کیسا ہے، ایسے شخص کو ظالم و فاسق و فاجر کہہ سکتے ہیں یا نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔