استاذ کا شاگرد کو معاف نہ کرنا
سوال
زید نے اپنے استاذ کی توہین کی اور استاذ کو اس کے اس گستاخانہ الفاظ سے دلی تکلیف ہوئی لیکن لڑکا اپنی غلطی و گستاخی پر نادم وشرمندہ ہے، مگر استاذ یہ کہتا ہے کہ میں اب معاف نہیں کر سکتا، مگر لڑکا بار بار اپنی غلطی کی معافی چاہتا ہے، اب ایسے وقت میں استاذ کو کیا کرنا چاہئے، جب کہ استاذ پہلے بھی تین بار معاف کر چکا ہے، اور اب چوتھی بار بھی معافی کی درخواست کرتا ہے؟
جواب
مکارم اخلاق اور شاگرد پر شفقت کا تقاضہ یہی ہے کہ استاذ معاف کر دے لیکن بطور سزا کچھ بے تعلقی مناسب و مفید ہو تو اس میں بھی مضائقہ نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔