الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اگر تادیباً مارنے سے موت واقع ہو جائے

سوال

ایک شخص نے اپنی بیوی کے مرجانے کے بعد بیوی مرحومہ کی بیوہ بہن سے نکاح کیا، بیوہ بہن کے پہلے شوہر سے ایک لڑکی تھی کسی معاملہ پر ایک روز اس شخص نے اس لڑکی کو مارا دفعتاً لڑکی چند گھنٹے بعد مر گئی، در حقیقت اس شخص کا ارادہ جان سے مارنے کا نہ تھا، تو ایسے شخص کے لئے کیا حکم ہے؟

جواب

جس کے مارنے سے وہ لڑکی مر جائے، اس کے ذمہ ضمان واجب ہے، ”کضرب المعلم اجماعاً وان الضرب باذنهما لاضمان على المعلم اجماعاً. كذافي الدرالمختار والمحيط، ردالمحتار، ج ۱ ص ۴۰۱

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو