الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ضرورت پڑنے پر نامحرم عورتوں سے گفتگو

سوال

بیہقی کی ایک روایت ہے کہ جو نا محرم پر نظر ڈالے اور جو اپنے اوپر نامحرم کی نظر پڑنے کی خواہش اور تمنا کرے اس پر خدا کی لعنت ہے، (مذکورہ حدیث مولانا عاشق الہی بلند شہری نے رسول اللہ ﷺ کی پیشین گوئیاں کے ص ۶۶/ پر اخذ کی ہے) آج کے دور میں مندرجہ بالا حدیث پر عمل کرنا دشوار ہورہا ہے، کیونکہ جدھر نظر ڈالیں عورتیں ہی عورتیں نظر آتی ہیں، دفتروں میں بحیثیت آفیسر یا سکریٹری، اسپتال میں بحیثیت ڈاکٹر یا نرس، دوکانوں میں بحیثیت مالک یا نوکر اور کالجوں میں بحیثیت پرنسپل یا استاذ اسی طرح دیگر شعبوں میں خواتین کسی نہ کسی عہدہ پر…

جواب

نامحرم سے بات کرنے کی ضرورت پیش آئے تو آنکھ میں آنکھ ڈالکر بات نہ کی جائے، نگاہ بچا کر بھی بات کی جاسکتی ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو