الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اپنے جانور کے چارہ کا نظم کرنا ضروری ہے

سوال

زید وعمر دو شخص یکہ چلانے والوں نے کمائی کے حلال و حرام ہونے پر جھگڑا کیا۔ صورت حال یہ ہے کہ زید نسبتاً عمر کے دیندار ہے، صوم وصلوٰۃ کا پابند ہے، دینی کاموں میں مشغول رہتا ہے اور اعمال خیر میں بھی حصہ لیتا رہتا ہے، لیکن کمائی کا یہ حال ہے کہ شام کو یکہ سے گھوڑا کھول کر باندھ دیتا ہے۔ اب گھر والے چاہے کچھ گھوڑے کا انتظام کریں گھانس دانہ کا۔ زید مسجد جا کر نماز مغرب پڑھ کر وہیں وظائف وغیرہ میں مشغول ہو جاتا ہے۔ نماز عشاء پڑھ کر گھر آکر کھانا کھا کر چارپائی پر لیٹتا ہے۔

جواب

جانور کے کھانے پینے کی فکر بھی لازم ہے۔ اس کے ذریعہ روپیہ کمایا جاتا ہے تو پھر اس کو گھاس دانہ پانی نہ دینا ظلم ہے۔ وہ بے زبان یہاں کچھ نہ کہے، مگر حق تعالیٰ کے نزدیک یہ حرکت موجب عتاب ہے۔ خود اگر وظیفہ میں رہتا ہے تو اہل خانہ کے ذریعہ اس کا انتظام ضروری ہے۔ آمدنی جو حاصل ہوتی ہے وہ دونوں (زید و عمر) کی حلال ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو