حکومت الہیہ کا قیام
سوال
میرے کچھ قریبی عزیز جو مجھ سے عمر میں بڑے بھی ہیں، میرے یہ کہنے پر بندوں کے اوپر بندوں کی نہیں اللہ کی حکومت ہونی چاہئے اور اسی کا حکم ہونا چاہئے، جبکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نبی اکرم ﷺ کے ذریعہ سے تمام دستور حیات ہم کو دیا ہے، اور آخرت میں اس کا جواب دینا ہے مجھے کوتاہ فہم اور بے عقل قرار دیتے ہیں، اور ساتھ ہی ساتھ مذاق بھی اڑاتے ہیں، مزید یہ ثابت کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں، کہ وقت کے حاکم کا حکم ماننا چاہئے، خواہ شریعت کے خلاف ہی کیوں نہ ہو، اور اسی وجہ سے ہم ڈاکٹر امبیڈ کر کے دستور کو بھی مانتے ہیں، یہاں جائز اور…
جواب
قرآن کریم میں ہے” ان الحکم الا للہ جن امور میں اللہ پاک کا ارشاد موجود ہے، یا حدیث شریف موجود ہے، یا ائمہ مجتہدین نے قرآن وحدیث سے استخراج کر کے اتفاق کرلیا ہے، ان میں ان سب کو چھوڑ کر محض خواہشات نفسانی کے ماتحت از خود عمل کرنا یا کسی کو مستقلاً تسلیم کرنا جائز نہیں، جن مسائل میں قرآن کریم یا حدیث شریف یا ائمہ مجتہدین سے دونوں طرح گنجائش ملتی ہے، ان میں زیادہ تنگی نہیں، مگر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔