الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بیعانہ لینے سے بیع

سوال

عمر نے زید کو مکان کا ایک چوتھائی حصہ چار سو روپیہ میں فروخت کر دیا، اور مبلغ سو روپیه بطور بیعانہ لیکر یہ تحریر لکھدی کہ میں مبلغ سو روپیہ بطور بیعانہ اب لیتا ہوں، اور مبلغ تین سو روپئے رجسٹری کے وقت لونگا، زید نے جب عمر بائع سے رجسٹری کا تقاضا کیا تو عمر بائع رجسٹری کو ٹالتا رہا اور کچھ عرصہ بعد مکان پر جبراً اپنا قبضہ کر لیا، اور جو مبلغ سوروپے بطور بیعانہ لیا تھا، اسکے واپس دینے سے بھی انکار کر دیا، اب یہ باتیں دریافت طلب ہیں؟ (۱) یہ بیع صحیح ہوگئی یا نہیں؟ (۲)

جواب

(۱) صحیح ہوگئی (۲) نہیں ہے (۳) نہیں ہے (۴) بیع تھی اب اگر بائع اس کو فسخ کرنا چاہے تو مشتری کی رضا مندی سے مبلغ سوروپے واپس دے کر فسخ کر سکتا ہے۔ (۵) اگر بائع مکان نہیں دیتا اور جھگڑا کرتا ہے تو مشتری کو حق حاصل ہے کہ اپنا روپیہ واپس لے لے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو