الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بیعانہ کا حکم

سوال

ادھر دستور ہے کہ جب کوئی شئی خرید و فروخت کی بات چیت ہوتی ہے، تو بات کو پختہ و مستحکم بنانے کے لئے چیز والا خریدار سے کچھ رقم یا نقد روپیہ لیتا ہے، اس کو (بیعانہ) کہتے ہیں اگر خریدار نے بات چیت کے مطابق وہ چیز لی تو ٹھیک ہے، اور اگر نہ لی تو بیعانہ سوخت ہو جاتا ہے، خریدار کو واپس نہیں ملتا، ایسا کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں؟

جواب

یہ بیعانہ جزو قیمت ہے جس کو پیشگی وصول کیا جاتا ہے، پھر بقیہ قیمت معاملہ پختہ ہونے پر وصول کر لیجاتی ہے، اگر معاملہ بیع طے نہ ہو بلکہ ختم ہو جائے، تو یہ بیعانہ واپس کرنا ضروری ہے، اس کا روکنا اور سوخت کر دینا درست نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو