اولیاء اللہ کے لئے نذر ماننا
سوال
کیا مشکل کے وقت مرحوم بزرگان دین اولیاء کرام کو پکارنا منتیں ماننا، پیروں کے نام سے نذر و نیاز کرنا اور یہ عقیدہ رکھنا کہ ہم پیروں کو اللہ کے برابر نہیں مانتے ہم ان کو اللہ کے بندے مانتے ہیں، اسی نے ان کو یہ قدرت و تصرف بخشا ہے، اسی کی مرضی سے عالم میں تصرف کرتے ہیں، ان سے مدد مانگنا عین اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنی ہے، کیا ایسا عقیدہ درست ہے؟
جواب
ایسا عقیدہ رکھنا تعلیمات اسلام کے خلاف اور غلط ہے، اس کو توبہ لازم ہے ورنہ اندیشہ ہے کہ ایمان بالکل ہی سلب نہ ہو جائے، ”اما النذر الذي ينذره اكثر العوام على ماهو مشاهد كان يكون لانسان غائب او مريض اوله حاجة ضرورية فياتي بعض الصلحاء فيجعل ستره على راسه فيقول یاسیدی فلان ان رد غائبی او عوفی مریضی اوقضيت حاجتی فلك من الذهب كذا او من الفضة كذا او من الطعام كذا او من الماء كذا او…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔