انگوٹھے چومنا اور حیلہ اسقاط
سوال
جو شخص اذان کے وقت انگوٹھے نہ چومے وہ کافر ہے، یا مسلمان کیا اس کو کافر کہنا جائز ہے یا نہیں؟ (۲) ہمارے ملک میں مردہ پر سے صوم وصلوٰۃ کے اسقاط کا یہ رواج ہے کہ دوسیر گندم اس پر ایک روپیہ اور قرآن مجید یہ تینوں چیزوں کو ملا کر دو تین آدمی جو کہ ان میں کوئی مسکین نہیں ہوتا ہے، آپس میں ملک وتملیک کرتے ہیں، یہ فقہ میں بھی مروجہ طریقہ ہے یا نہیں، اور جو شخص اس مروجہ طریقہ کا قائل نہ ہو اس کو ملامت کرنا اور اس پر دھبہ لگانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
(۱) اذان کے وقت انگوٹھے چومنا کسی حدیث مرفوع سے ثابت نہیں، لہذا اس کو سنت سمجھنا غلط ہے، البتہ بعض سلف سے آشوب چشم کا علاج ہونے کی حیثیت سے منقول ہے پھر اس کے ترک پر کفر کا حکم تو کیا ہوتا ترک استحباب کا بھی نہیں، کسی مسلمان کو بلا وجہ شرعی کا فر کہنا نہایت خطرناک ہے، اس سے ایمان جاتا رہتا ہے۔ (۲)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔