الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اذان میں انگوٹھے چومنا

سوال

اذان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر انگوٹھا چومنا، مولانا عبدالشکور صاحب نے کنز العمال سے ثابت کیا ہے کہ پہلے مرتبہ حضرت کے نام پر صلّی الله عَلَيْكَ يَا رَسُول اللہ کہے یہ صیغے حاضر کے ہیں، تو کیا آنحضرت ﷺ کو حاضر تصور کریں، بہار شریعت میں بحوالہ ردالمختار لکھا ہے کہ جب موذن اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ الله کہے تو سننے والے درود شریف پڑھے اور مستحب ہے کہ انگوٹھوں کو بوسہ دیکر آنکھوں سے لگائے اور کہے ” قُرَّةُ عَيْنِي بِكَ يَا رَسُول الله اللهُمَّ متَعْنِي بِالسَّمْعِ وَالْبَصْرِ “ یہ قول مفتی بہ ہے…

جواب

اس حدیث کو بحوالہ فردوس دیلمی نقل کر کے تذکرۃ الموضوعات ص ۳۴ میں لکھا ہے لا يصح“ اور ابوالعباس متصوف کی سند کو لکھا ہے ”فیہ مجاهیل“ اس کے بعد بعض سلف سے نقل کیا ہے کہ یہ آشوب چشم کا مجرب علاج ہے پس اس کو سنت ہدی سمجھ کر بطور عبادت کرنا بے اصل بلکہ بدعت ہے، اسلئے ترک لازم ہے، ہاں اگر کوئی آشوب چشم کے علاج کی غرض سے اسی طرح کرے، جس سے دوسروں کو سنت وثواب ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو