الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حرمت جسم شہید علی الارض کی تشریح (بیان القرآن کی ایک عبارت)

سوال

بیان القرآن میں ایک جگہ یہ عبارت ہے ” حدیث میں حرمت جسم شہید علی الارض، وارد ہے غیر ارض سے غیر متاثر ہونا وارد نہیں، چنانچہ دوسرے اجسام مرکبه مثل اسلحہ، ادویہ، اغذیہ واخلاطه و اجسام بسیطه مثل آب وآتش و باد کی تاثیر انبیاء علیہم السلام کی حیات قبل الممات سے اقویٰ نہیں اور بعض حصہ ارض میں بعض حصہ غیر ارضیہ بھی شامل ہو جاتی ہے، جس طرح دوسرے عناصر میں بھی مخالف عناصر شامل ہو جاتے ہیں سو اگر ان اجزاء غیر ارضیہ سے ان کے اجسام متاثر ہو جائیں تو اس سے ان احادیث پر اشکال نہیں ہوتا، جن میں حرمت اجسام علی الارض وارد ہے اور…

جواب

بعض روایات میں آیا ہے کہ شہید کا جسم محفوظ رہتا ہے، مٹی اس کو متاثر نہیں کرتی، گلتا سڑتا نہیں، شہید کو ایک خاص قسم کی حیات حاصل ہے، اس پر اشکال وارد ہوتا ہے کہ تلوار سے اگر اس کے ٹکڑے کر دیئے جائیں تو وہ کٹ جاتا ہے آگ اور پانی سے بھی متاثر ہوتا ہے، جس چیز میں مٹی اور دوسری چیز مخلوط ہو اس سے متاثر ہوتا ہے، یہ متاثر ہونا حدیث کے خلاف ہے، جس میں اس کے محفوظ رہنے کو فرمایا گیا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو