عدت کے دوران پردہ سے متعلق کچھ سوالات
سوال
میرے والد صاحب کا انتقال ابھی حال ہی میں ہوا ہے، ان کی بیماری کے دوران میری والدہ بھی ہسپتال وغیرہ میں دوڑ بھاگ میں رہا کرتی تھیں، اس دوران اُن کا پردہ کئی ایسے لوگوں سے بھی ہونا ممکن نہ تھا، جس سے وہ پردہ کیا کرتی تھیں، اب ان کے انتقال کے بعد پوزیشن یہ ہے کہ گھر یعنی دہرہ دون میں ایک میری چھوٹی بہن اور والدہ رہ گئی ہیں، گھر کے کام کاج میں ضرورت دوسروں کی مدد کا پڑ جانا لازمی ہے، ایک صاحب زید ہیں جو والد صاحب کی حیات میں بھی ہمارے گھر کے ایک فرد کی طرح سے ہمارے گھر آیا جایا کرتے تھے، اور ان سے والدہ کا پردہ نہیں…
جواب
جو شخص شرعاً نا محرم ہو اس سے پردہ لازم ہے خواہ زمانہ عدت ہو یا نہ ہو، زید سے بھی پردہ لازم ہے، وہ علیحدہ باہر کسی جگہ رہ سکتے ہیں، تنہائی میں آپ کی والدہ صاحبہ سے نہ ملیں۔ (۱) پردہ ضروری ہے، (۲) ضروری ہے۔ (۳) عدت کی مدت چار مہینے دس دن پوری لازم ہے اس میں کمی نہیں۔ (۴) جب وہ بالغ ہو گئے ہیں تو ان سے بھی پردہ ضروری ہے۔ (۵) بلاضرورت نامحرم سے بات نہ کی جائے (۶)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔