شیخ طریقت کے اوصاف
سوال
زید پیر طریقت اور بعض اعمال میں نہایت متبع شرع ہے مگر ایک عمل تو یہ ہے کہ اکثر قیلولہ ایسا کرتے ہیں کہ نماز ظہر میں دیدہ و دانستہ اپنی جماعت ثانیہ کرتے ہیں۔ تقریباً ہمیشہ کا معمول ہے۔ اگرچہ اشارہ کہا جا چکا کہ جماعت اول کے برابر جماعتِ ثانیہ کا ثواب نہیں ہوتا۔ حافظ ہیں، ظاہراً علم حدیث و قرآن کا نہیں مگر نماز روزہ کے نہایت پابند ہیں اور بظاہر کوئی گناہ کی بات نظر آئی نہ سنی۔ آیا عند الشرع شریف ایسے شخص قابل شیخیت ہو سکتے ہیں اور لوگ بیعت ہو سکتے ہیں؟
جواب
بیعت کے لئے شیخ ایسا ہونا چاہئے جو بقدر ضرورت علم دین رکھتا ہو۔ عقائد حقہ، اخلاق فاضلہ، اعمال صالحہ کے ساتھ متصف ہو۔ حب جاه، حب مال، ریاء، کبر، حسد و غیره اخلاق رذیلہ کی اصلاح کسی شیخ محقق کی تربیت میں رہ کر کر چکا ہو اور اس شیخ محقق نے اس پر اعتماد کیا ہو۔ بدعات سے پرہیز کرتا ہو، متبع سنت ہو۔ ان صفات کو دیکھ کر انتخاب کیا جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔