پہلے کا کھلایا ہوا کفارہ میں محسوب نہیں
سوال
زید ایک غریب کو ایک سال سے کھانا کھلا رہا ہے اب مسئلہ یہ ہے کہ اگر زید نے رمضان میں روزے کی حالت میں ایسے فعل کئے جس سے قضاء و کفارہ دونوں واجب ہوتا ہے مثلاً قصداً کھانا کھایا یا جماع کر لیا تو کیا اگر زید یہ نیت کرے کہ جو میں نے غریب کو کھلایا ہے اس میں دو مہینہ کفارہ کا ہے تو اس کی نیت درست ہوگی یا دوبارہ پھر کھلانا پڑے گا؟
جواب
پہلے کا کھلایا ہوا اب کفارہ میں محسوب نہیں ہوگا جیسے حنث سے پہلے کفارہ یمین کا ادا کرنا معتبر نہیں۔ افسادِ صوم کے بعد کفارہ کا ادا کرنا ضروری ہے نیز نیت متاخرہ عمل مقدم میں کافی نہیں اسکے ذریعہ سے واجب ادا نہیں ہوتا لا عبرة بنية متاخرة اهـ (در مختار)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔