فرض اور سنت کے درمیان وظیفہ
سوال
یہاں کے امام صاحب بعد ظہر و مغرب وعشا تھوڑا وظیفہ پڑھ کر دعاء مانگا کرتے ہیں، کبھی طویل مانگتے ہیں اس کے بعد دیر تک وظیفہ پڑھتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ مقتدی دو تین رکعت نماز پڑھ سکتے ہیں اس کے بعد امام صاحب سنت پڑھتے ہیں ان کو سمجھایا گیا کہ جن نمازوں کے بعد سنت ہیں مختصر دعا مانگ کر جلد سنت پڑھنا چاہئے،مگر وہ اپنی عادت نہیں چھوڑتے ایسے امام کی اقتداء میں کچھ خرابی تو نہیں۔
جواب
افضل طریقہ تو یہی ہے کہ فرض نماز کے بعد متصلا سنتیں پڑھی جائیں لیکن اگر امام صاحب نہیں مانتے تو اصرار و تشدد کی ضرورت نہیں کیونکہ سنتوں سے پہلے وظیفہ پڑھنا بھی کچھ گناہ نہیں ویکرہ تاخير السنة الا بقدر اللهم انت السلام الخ قال الحلواني لابأس بالفصل بالاوراد واختاره الكمال قال الحلبى ان اراد بالكراهة التنزيهية ارتفع الخلاف لانه اذا كانت الزيادة مكروهة تنزيهية كانت خلاف الأولى…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔