السلام کا ألف لام اور اللہ اکبر کی را کو صاف ادا کیا جائے
سوال
امام کے لئے نماز کی تکبیرات میں اللہ اکبر اس طرح کہنا کہ را قطعاً ظاہر نہ ہوا اور سلام اس طرح ادا کرنا کہ السلام کے بجائے پوری طرح سلام علیکم بغیر ألف لام کے ظاہر ہو جائز ہے یا نہیں؟
جواب
ہر شخص خاص کر امام قصداً تو السلام ہی کہتا ہے لیکن بعض دفعہ ألف لام ظاہر نہیں ہوتا سننے والے سمجھتے ہیں کہ سلام کہا ہے، اس طرح قصد تو اللہ اکبر ہی کہا جاتا ہے لیکن کبھی اکبر کی را اتنی مخفی ہو جاتی ہے کہ لوگ سن نہیں پاتے نماز اس طرح بھی ہو جاتی ہے، تاہم دونوں چیزوں کو پورے طور پر ادا کرنے کی کوشش کی جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔