جلسہ کی ابتداء کلام پاک سے
سوال
مسلم یونیورسٹی مسلمانوں کا ادارہ ہے (۱) جس کی مجلس (مسلم یونیورسٹی کورٹ) خالصتاً مسلمانوں کی جماعت ہے اور کوئی غیر مسلم قانونا اس کا ممبر نہیں بن سکتا، مجلس مذکورہ کے جلسہ خصوصی منعقدہ ۷ اردسمبر ۱۹۳۹ھ میں ایک ممبر نے یہ تجویز پیش کی کہ کورٹ کے جلسوں کی ابتداء تلاوت کلام پاک سے ہوا کرے۔ اس پر ایک دوسرے ممبر نے مخالفت کی اور کہا کہ آج اس جلسہ میں تلاوت کلام ہو گی کل دوسرے جلسوں میں ہوا کریگی اور جلسہ میں ناظم دینیات کو کلام پاک پڑھنے کے لئے بلانا ہوگا۔
جواب
(۱) اہل اسلام کے جلسہ کی ابتداء اگر تلاوت کلام اللہ شریف سے ہو تو نہایت مستحسن ہے اور باعث برکت ہے۔ لیکن یہ فرض واجب کے درجہ میں نہیں کہ اس کے ترک کرنے سے گناہ ہو۔ بلکہ محض استحسان اور استحباب کا درجہ ہے کہ اس کے خلاف کرنے سے برکت اور ثواب سے محرومی رہے گی اور بفضلہ تعالیٰ مسلمان قرآن شریف سے اس قدر تعلق اور لگاؤ رکھتے ہیں کہ ہر جگہ کم و بیش اس کی تلاوت پر قدرت رکھنے والے ضرور…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔