روح نکلنے کے بعد میت کے پیر قبلہ کی طرف کرنا
سوال
کسی مسلمان کی روح نکلنے کے بعد اس کو کس سمت رکھا جائے؟ ہمارے یہاں عام رواج یہ ہے کہ روح نکلنے کے بعد اس کے پیر کو قبلہ رخ کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کے چہرہ کا رخ قبلہ کی طرف ہو جاتا ہے، جب کہ زندگی میں قبلہ کی جانب پیر پھیلا کر سونے یا بیٹھنے کی ممانعت کی گئی ہے۔
جواب
روح جسم سے نکل جانے کے بعد میت کے پیر کو قبلہ کی طرف کر دینے کا رواج شرعاً بے اصل اور غلط ہے، ہاں موت سے پہلے جب موت کے آثار شروع ہو جائیں تو اس وقت اس کا سر شمال کی طرف اور پیر جنوب کی طرف رخ قبلہ کی طرف کر دیا جائے، یہی افضل اور سنت طریقہ ہے، اگر چہ کسی مصلحت کی خاطر کوئی دوسری صورت بھی درست ہے : ”ویسن توجیه المحتضر اى من قرب من الموت على يمينه لانه السنة وجاز الاستلقاء على…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔