جو مسئلہ پیش آئے اس کا جواب دریافت کیا جائے مثلاً مثلاً سے نہیں
سوال
اگر کوئی مسلمان مرد خدا نخواستہ زبان سے کوئی کلمہ کفر کہہ دے جس سے کہ وہ کافر ہو جائے۔ مثلاً خدا کو گالی دے دے یا کسی شرعی بات کا منکر ہو جائے اور وہ اپنی عورت سے صحبت کرے اور حمل پڑ جائے اور مثلاً لڑکی پیدا ہو جائے تو میرے بزرگان دین وہ لڑکی حرام ہے یا حلال کیوں کہ وہ مرد کافر ہو گیا تھا اور اس کا نکاح بھی ٹوٹ گیا تھا اور اس نے عورت سے صحبت کی تو وہ زنا ہو گیا وہ حمل کیسا ہے؟
جواب
جو بات واقعہ پیش آئی ہو صحیح صحیح لکھ کر اس کا حکم دریافت کرنا چاہئے فرضی باتیں مثلاً مثلاً کہہ کر ایسے امور میں پوچھنا ٹھیک نہیں، کافر ہو جانا بہت سخت ہے اللہ پاک محفوظ رکھے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔