احرام سے حلال ہونے کیلئے چند بالوں کا منڈانا
سوال
ارکان عمرہ ادا کرنے کے بعد ارکان حج میں دس ذی الحجہ کے بعد اور متمتع اور قارن کو قربانی کرنے کے بعد مرد کو سارے سر کے بال استرے سے منڈوانا چاہئے، یا سارے سر کے بال انگلی کے ایک پور کے برابر کٹوانا ہونگے، اگر سر کے بال انگلی کے ایک پور یعنی انملہ کے برابر بڑے نہیں تو سارے سر کے بال کو کم از کم چوتھائی سر کے بالوں کو استرے سے منڈوانا پڑے گا، تا کہ احرام اتر جائے، اور ممنوعات احرام حلال ہو جائے، مگر آج کل لاکھوں کی تعداد حج میں ایسے لوگوں کی ہوتی ہے کہ وہ سر کے بال کے صرف چند بال کٹوا لیتے ہیں، لہذا نہ تو ان کا احرام…
جواب
یہ رواج غلط اور خلاف شرع ہے، اس چیز کے اختیار کرنے پر عوام کو کس نے مجبور کیا، خاص کر جبکہ فقہاء نے اس سلسلہ میں بہت وسعت دی، مثلاً چوتھائی سر کے بال منڈوانا یا کتروانا بھی کافی ہے، ایک انگلی سے کچھ زیادہ بال کٹادینا بھی کافی ہوتا ہے، یہ ضروری نہیں کہ جڑ ہی سے کاٹا جائے، یعنی احرام سے ان صورتوں میں بھی حلال ہو جائے گا، اگر چہ صرف چوتھائی سر کے بال منڈانے یا کٹانے سے مکروہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔