خط لکھنے کے بعد مٹی سے خشک کرنا
سوال
مولانا مفتی قدرت اللہ صاحب کی ایک تصوف کی کتاب میں لکھا ہے کہ خط لکھنے کے بعد مٹی سے خشک کرنے میں ایک راز ہے۔ لیکن راز کا انکشاف نہیں فرمایا۔ براہ کرم اس راز سے مطلع فرمائیں۔
جواب
بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ اس سے خط میں لکھی ہوئی حاجت پوری ہوتی ہے۔ اتنی بات تو ظاہر ہے کہ اگر روشنائی خشک نہ کی جائے تو ہاتھ وغیرہ لگ کر اس کے پھیل جانے اور تحریر کے بگڑ جانے کا اندیشہ ہے۔ پھر ایسی حالت میں مکتوب الیہ اس کو پڑھ نہیں سکے گا۔ کاتب کا مقصد حاصل نہیں ہوگا۔ لہذا روشنائی خشک کر دی جائے تا کہ حروف اصلی صورت پر باقی رہیں اور مکتوب الیہ بسہولت صحیح پڑھ لے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔