کمیونسٹ کے جنازے کی نماز
سوال
عبد الحکیم نام کا ایک شخص مسلمان کے گھر میں پیدا ہوا اور مسلمان کے طریقہ پر چلتا تھا اور کمیونزم سیاسی میں داخل ہو کر اسلام کا قانون چھوڑ دیا اور گھر والوں کو بھی چھوڑ دیا اور لوگوں میں یوں کہا کرتا تھا کہ اللہ کوئی ہے نہیں، انسان نے جھوٹ موٹ ایسا کہہ دیا انسان ایسا ہی پیدا ہوتا ہے اور ایسا ہی مرتا ہے، پیدا کرنے والا خدا کیوں ہوگا، وہ ایک فطری چیز ہے اور ہر چیز ایسی ہوتی ہے، بننے میں اور بگڑنے میں انسان کی محنت پر دارومدار ہے محمد ﷺ اس زمانہ میں ایک شاعر تھے، قرآن ان کا بنایا ہوا شعر ہے، نماز روزہ کی کوئی ضرورت…
جواب
اگر اس شخص کے واقعی وہ حالات تھے جو سوال میں درج ہیں اور اس نے اخیر وقت تک رجوع نہیں کیا تو اسکے جنازہ کی نماز درست نہیں تھی، اگر واقعات حالات معلوم ہونیکے باوجود نماز جنازہ اسکی پڑھی گئی تو یہ غلط اور گناہ کا کام ہوا، توبہ واستغفار لا زم ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔