الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تجارت میں ذخیرہ اندوزی

سوال

تجارت میں ذخیرہ اندوزی کیسی ہے؟ ذخیرہ اندوزی کب تک جائز یا نا جائز ہے؟

جواب

ذخیرہ اندوزی سے اگر یہ مراد ہے کہ اپنی بستی کا غلہ خرید کر اپنے پاس محفوظ کر لیا جائے، اور باوجود ضرورت کے فروخت نہ کیا جائے، کہ جب زیادہ گراں ہو جائے گا، تب فروخت کرے گا، تو یہ صورت شرعاً نا جائز ہے اور موجب لعنت ہے۔ ”المحتكر ملعون (الحدیث) اگر کچھ اور مراد ہے تو اس کو صاف لکھئے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو