خنزیر کا پالنا، چرانا، بیچنا سب غلط ہے
سوال
(۱) ایک مسلمان شخص نے کسی اخبار میں یا کسی تاریخ کی کتاب میں یہ شائع کر دیا کہ حضور ﷺ بکری اونٹ خنزیر پالتے تھے، اور چراتے تھے، (العیاذ باللہ) کیا اس بات کا کہیں کسی کتب تواریخ یا کتب فقہ وغیرہ میں ثبوت ملتا ہے، اگر نہیں ملتا ہے، تو اس بات پر مکمل تردید مع عبارت و حوالہ کتب وغیرہ ارسال فرمائیں؟ (۲) کیا اس نجس العین (خنزیر) کا پالنا کسی مسلمان کے لئے جائز ہے، یا اس کا خرید و فروخت کرنا یا اس خنزیر کو کرایہ پر چرانا کسی مسلمان کے لئے جائز ہے یا نہیں؟ دونوں سوالوں کا جواب مفصل و مدلل تحریر فرمائیں؟
جواب
(۱) بکری کا چرانا تو حدیث شریف سے ثابت ہے، بخاری شریف میں موجود ہے، خنزیر کا چرانا خود اس سے دریافت کریں، جس نے لکھا ہے، وہی حوالہ دے، تو اس کی تردید کی جائے، بلا حوالہ بات کی تردید کے لئے تو اتنا ہی کافی ہے، کہ یہ غلط ہے بلا دلیل ہے، نہ خنزیر پالنا ثابت ہے نہ چرانا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر بہتان ہے۔۔ (۲)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔