الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کچھوے کی بیع

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء دین اس بارے میں کہ کچھوا فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر نا جائز ہے اور پھر بھی کسی نے فروخت کر دیا تو اس کا ثمن (قیمت) کیا ہوگا؟

جواب

کچھوا غیر ماکول اللحم ہے، مگر خنزیر کی طرح کلیہ محرم انتفاع نہیں پس اگر اس میں کوئی منفعت ہے، تو اس کی بیع جائز ہے، جیسے کلب، فہد وغیرہ کی بیع جائز ہے، اور ثمن کا استعمال کرنا درست ہے۔” قال الشامی، ص۱۱۱/ج۴/ر۱ نعمانیہ۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو