گیارہویں وغیرہ
سوال
زید گیارہویں کرتا ہے اور اس میں امیروں کو یعنی صاحب زکوۃ کو اور اپنے رشتہ داروں کو بلاتا ہے، اور کہتا ہے کہ اس پر ثواب ملے گا اور اس کا ثواب حضرت پیران پیر عبد القادر جیلانی صاحب کی روح کو پہنچے گا، عمر کہتا ہے کہ صاحب زکوۃ کو ایسا مال کھانا جائز نہیں بلکہ حرام اور گناہ ہے کیونکہ گیارہویں ہی کرنا حرام ہے، قرآن کریم میں صاف ہے کہ وہ چیز جو پکاری جائے غیر کے لئے حرام ہے، بکر کہتا ہے کہ گیارہویں کھانا صاحب زکوٰۃ کو یعنی امیروں کو بلا کراہت جائز ہے، البتہ امراء کے کھانے سے اہل میت کو اور اس شخص کو جس کو ایصال ثواب…
جواب
نفس ثواب بغیر التزام تاریخ و ہیئت وغیرہ کے شرعاً درست اور فائدہ مند ہے، لیکن گیارہویں مروجہ بدعت اور نا جائز ہے، کسی بزرگ کیلئے نذر ماننا حرام اور شرک ہے وہ کھانا جائز نہیں، البتہ خداوند تعالیٰ کیلئے نذر مانا اور اس کا ثواب کسی بزرگ کو پہنچانا درست ہے، اور یہ کھانا فقراء اور محتاجوں کا حق ہے کسی مالدار کو کھانا جائز نہیں، صحابی کے کنویں سے استدلال صحیح نہیں وہ بطور نذر نہیں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔