The calculator follows the Hanafi madhhab. For non-standard situations:Ask a Question →
Free — a bleeding calendar: mark the start and the end, see the days and the cycle length.
With a subscriptionthe tracker applies fiqh: whether it is hayd or istihada, when purity began, what your adat is, which prayers and fasts to make up, reminders about ghusl and status changes, and the iddah.
For accurate hayd calculation according to the Hanafi madhhab, indicate your status:
dayshours
From 3 to 10 days (72–240 hours)
Specify time
The current time is set automatically. You can change it manually.
⏳ Activate iddah (عدة)
Auto-detection:—
Iddah type:—
⏳ Iddah active
🌙
رصد الهلال
Hilal sighting module — under development
Note
نبی کریم ﷺ کی زندگی میں رمضان (رَمَضَان) کے واقعات
اس ہجری مہینے رمضان (رَمَضَان) میں کتاب «سیرت المصطفیٰ» کے مطابق رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کی زندگی کے 20 واقعات پیش آئے۔ تاریخیں کتاب کے متن کے مطابق ہیں؛ جہاں علماء کا تاریخ میں اختلاف ہے وہاں وضاحت میں اصل قول اور دوسرے اقوال بیان کیے گئے ہیں۔
دنوں کے مطابق واقعات
10 رمضان 8 ھ — فتحِ مکہ کے لیے مدینہ سے روانگی
رسول اللہ ﷺ رمضان کے دسویں دن عصر کے بعد دس ہزار مجاہدین کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوئے؛ آپ کے ساتھ ام سلمہ اور میمونہ ﵅ تھیں۔ سال — 8 ھ (کتاب کے متن کے مطابق)؛ رمضان کے مہینے کی تصدیق احادیث سے ہوتی ہے (بخاری 4257، احمد 2882)۔
تاریخ کے ایک عدد کی کتاب کے عکس سے تصدیق ہو رہی ہے۔
12 رمضان 2 ھ — نبی کریم ﷺ کی مدینہ سے بدر کی طرف روانگی
رمضان کے شروع میں نبی کریم ﷺ کو شام سے لوٹنے والے ابو سفیان کے قافلے کی خبر ملی؛ 12 رمضان کو آپ 313 (دوسری روایات کے مطابق 314 یا 315) صحابہ کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوئے، جن کے پاس دو گھوڑے اور ستر اونٹ تھے۔
مصنف بتاتا ہے کہ وحی کا آغاز پیر کے دن ہوا، جب نبی کریم ﷺ کی عمر چالیس سال تھی۔ مہینے کے بارے میں اقوال مختلف ہیں: ابن عبد البر 8 ربیع الاول بتاتے ہیں، ابن اسحاق — 17 رمضان؛ حافظ ابن حجر «فتح الباری» میں رمضان کو درست مانتے ہیں۔ اس تاریخ میں اختلاف ہے۔ کیلنڈر میں: 17 رمضان (جیسا کہ کتاب کے بنیادی متن میں ہے: وہ رائے جسے مصنف زیادہ درست مانتا ہے یا «مشہور» کہتا ہے)۔ دیگر آراء: 8 ربیع الاول — حافظ ابن عبد البر: 8 ربیع الاول، پورے چالیس سال۔
جمعہ کے دن 17 رمضان 2 ھ کو بدر میں مسلمانوں اور قریش کے لشکر کا مقابلہ ہوا؛ اللہ نے مومنوں کی مدد فرمائی، قریش کے ستر آدمی مارے گئے اور ستر قید ہوئے۔ مصنف اسے غزوات میں سب سے عظیم قرار دیتا ہے۔
20 رمضان 8 ھ — فتحِ مکہ کے دن کعبہ کے دروازے پر خطبہ
فتحِ مکہ کے دن، جسے مصنف رمضان کا بیسواں دن بتاتا ہے، رسول اللہ ﷺ نے طواف اور کعبہ میں داخل ہونے کے بعد باہر تشریف لا کر قریش سے خطاب فرمایا؛ اس میں سب کو «آزاد» (الطلقاء) قرار دیا۔ سال — 8 ھ (کتاب کے متن کے مطابق)؛ رمضان کے مہینے کی تصدیق احادیث سے ہوتی ہے (بخاری 4257، احمد 2882)۔
تاریخ کے ایک عدد کی کتاب کے عکس سے تصدیق ہو رہی ہے۔
اسماء یہودیہ اپنے اشعار میں رسول اللہ ﷺ کی ہجو کرتی تھی؛ عمیر بن عدی ﵁ نے اپنی نذر پوری کی اور نبی کریم ﷺ کے بدر سے لوٹنے کے بعد رات کو اسے قتل کر دیا؛ مصنف بتاتا ہے کہ رمضان ختم ہونے میں پانچ راتیں باقی تھیں۔
رمضان — ابو طالب کی وفات (اور جلد ہی خدیجہ ﵂ کی) — «عام الحزن»
شعب سے نکلنے کے چند دن بعد ابو طالب کا انتقال ہو گیا، اور تین یا پانچ دن بعد خدیجہ ﵂ کی وفات ہوئی («غم کا سال»)۔ تاریخ میں اختلاف ہے۔ کیلنڈر میں: رمضان (آراء برابر ہیں — پہلے والی لی گئی ہے)۔ دیگر آراء: شوال۔
تاریخ کے ایک عدد کی کتاب کے عکس سے تصدیق ہو رہی ہے۔
حجۃ الوداع سے پہلے رمضان میں رسول اللہ ﷺ نے علی ﵁ کو تین سو آدمیوں کے ساتھ یمن بھیجا، اپنے دستِ مبارک سے ان کے سر پر عمامہ باندھا؛ حکم دیا کہ پہلے اسلام کی دعوت دیں۔
تاریخ کے ایک عدد کی کتاب کے عکس سے تصدیق ہو رہی ہے۔
رمضان — آخری رمضان: جبریل کے ساتھ قرآن کا دوہرا دور اور 20 دن کا اعتکاف
رسول اللہ ﷺ نے فاطمہ ﵂ سے فرمایا کہ اس رمضان میں جبریل نے آپ کے ساتھ قرآن کا دو بار دور کیا (عام طور پر — ایک بار)، اور اس سال اعتکاف دس کے بجائے بیس دن رہا؛ آپ نے اسے اپنے آخری وقت کے قریب آنے کی علامت سمجھا۔
رسول اللہ ﷺ نے قریش کے قافلے کا راستہ روکنے کے لیے حمزہ ﵁ کی قیادت میں مہاجرین کا ایک دستہ سیف البحر کی طرف بھیجا؛ لڑائی کی نوبت نہیں آئی، مجدی بن عمرو جہنی نے بیچ بچاؤ کرایا۔ مصنف اسے ہجرت کے بعد پہلا سریہ کہتا ہے۔ اس تاریخ میں اختلاف ہے۔ کیلنڈر میں: رمضان 1 ھ (جیسا کہ کتاب کے بنیادی متن میں ہے: وہ رائے جسے مصنف زیادہ درست مانتا ہے یا «مشہور» کہتا ہے)۔ دیگر آراء: ربیع الاول 2 ھ — ربیع الاول 2 ھ — اسی جملے میں دوسری رائے («على اختلاف الاقوال»)؛ 2 ھ — ابن اسحاق: تین سرایا (حمزہ، عبیدہ، سعد) غزوۂ ابواء کے بعد، 2 ھ میں ہوئے (متن میں «آدھ»/«اچھ» لکھا ہے؛ عدد بگڑا ہوا ہے)۔