قرآن میں سائنس کی بحث
سوال
ایک شخص کا یہ خیال ہے کہ قرآن پاک کا نزول اس لئے ہوا ہے کہ اخروی سعادت اور نجات حاصل ہو سکے اور خدا کی صحیح معرفت نصیب ہو۔ اسی مقصد کے لئے خدا نے جہاں مناسب سمجھا وہاں تمثیلات بیان کیں اور دلائل آفاقی و نفسی سے کام لیا مگر قرآن سائنس اور مادیت کی تعلیم دینے والی کتاب نہیں۔ کائنات کے بارے میں قرآن نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ ضمنی ہے یا تو توحید کے بیان کے لئے یا رسالت و آخرت وغیرہ عقائد اسلامی کے استدلال کے لئے۔
جواب
فیض الباری میں بھی اس کے قریب ہے مثلاً اس میں ہے کہ آسمان حرکت کرتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ چاند، سورج، تاروں کی حرکت نظر آتی ہے۔ قرآن پاک نے اس ظاہری ہیئت کا تذکرہ فرمایا ہے وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٌّ لَهَا كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ وَغیرہ اس سے بحث کرنا کہ زمین متحرک ہے یا آسمان زائد از ضرورت ہے بلکہ ظاہری ہیئت سے جو عبرت و نصیحت حاصل کی جاسکتی ہے اور خالق کی طرف…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔