کیا تلاوت کی وجہ سے کسی کے وظیفہ کو روکا جائے گا؟
سوال
اگر مسجد میں کوئی ورد یا وظیفہ پڑھ رہا ہو تو باآواز بلند تلاوت کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
اگر تلاوت پہلے سے کوئی شخص بآواز بلند کر رہا ہے اور پھر کسی نے آ کر اپنا وظیفہ شروع کر دیا تو تلاوت کرنے والے کو روکا نہیں جائے گا اور اگر وظیفہ پہلے سے کوئی شخص پڑھ رہا ہے تو بعد میں آنے والا آہستہ تلاوت کرے مگر مجبور پھر بھی نہیں کیا جائے گا محض استحسانی چیز ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔