الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

وعدۂ وقف پر ووٹ دینا

سوال

زیدا اپنی ممبری کے لئے چندہ مسلمانوں سے اپنے موافق ووٹ دلانا چاہتا ہے، اور کہتا ہے کہ اس کے معاوضہ میں مسجد کی کچھ اصلاح مرمت وغیرہ کر دونگا اور واسطے خرچ مسجد کے کوئی عمارت بنا دونگا، اور اس کی آمدنی کرایہ مسجد میں وقف کر دونگا تو کیا ایسی رقم سے مسجد میں امداد لینا تعمیر کرانا جائز ہے؟

جواب

اگر زید حقیقہ ممبری کے لائق ہے تو اس کو رائے دیگر ممبر بنانا چاہئے اور زید اگر ثواب کی نیت سے خواہ ممبری کے شکرانہ میں سہی مسجد کی تعمیر کرادے یا کچھ وقف کر دے تو اس میں کچھ مضائقہ نہیں، بلکہ موجب ثواب ہے، ممبری کے ووٹ اورائے دینے کے عوض میں اگر مسجد کی تعمیر کرادی اور اسکو رائے کی اُجرت قرار دے تو یہ نا جائز ہے، کیونکہ یہ رشوت ہے اگر زید ممبری کے لائق نہیں تو اس کو رائے دینا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو