پارلیمنٹ کے ووٹ کی بنیاد
سوال
ہندوستان میں میونسپل بورڈ یا اسمبلی کے انتخابات ہوتے ہیں، تو مسلمانوں کو اس میں کسی ہندو کو ووٹ دینا جائز ہے یا نہیں؟ ایک صاحب کہتے ہیں کہ ہندوستان میں جو الیکشن ہوتا ہے، وہ شریعت محمدیہ میں نا جائز ہے، اس لئے کہ جب ایک ہندو کو منتخب کیا تو وہ ظاہر ہے کہ فسق وفجور کرے گا، فاسق وفاجر کو منتخب کرنے کا گناہ منتخب کرنے والوں کو ہوگا، اور حضرت حسین نے یزید کی بیعت سے اس لئے انکار کر دیا تھا کہ وہ فاسق وفاجر تھا، جب ایک مسلمان فاسق وفاجر کو حضرت حسین نے منتخب نہیں کیا تو ایک ہندو کو منتخب کرنا کیسے جائز ہو سکتا ہے؟
جواب
جس کے متعلق ظن غالب ہو کہ وہ خیر خواہی اور ہمدری کرے گا، اس کو ووٹ دینا درست ہے، جس کے متعلق ظن غالب ہو کہ وہ ایسا نہیں کرے گا، اس کو ووٹ نہ دیا جائے، میونسپلٹی یا اسمبلی یا مسائل جو پیش ہوتے ہیں، وہ دینی نقطہ نظر سے پیش نہیں ہوتے، نہ اسلئے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے، نہ یہاں اس کا کوئی سوال ہے، بلکہ معاشی ومعاشرتی مفاد کے پیش نظر مسائل پیش کئے جاتے ہیں، جس کی طبیعت میں خیر خواہی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔