سٹہ کا نمبر بتانا
سوال
ایک شخص عالم ہے اور بظاہر پرہیز گار بھی ہے امام مسجد بھی ہے، مگر وہ عالم سفلی عمل کے ذریعہ سے سٹے کا نمبر بتلاتا ہے، اس کے پاس اگر کوئی شخص اس کا خادم بن کر جاتا ہے، اور خوشامد کرتا ہے، تو عالم صاحب اس کو سٹہ کا عمل بتلا دیتے ہیں، اور عالم صاحب یہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص بالکل مجبور اور مفلس ہو تو سٹے کا عمل ایسے شخص کے لئے پڑھنا جائز ہے، اور جو روپیہ نمبر لگانے کا ملے وہ جائز بتلاتے ہیں، تو آپ شرعی رو سے بتلائیے کہ ایسے عالم کا عقیدہ کیسا ہے؟ اور سٹے کا عمل کرنا اور بتلانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
اس عالم کا یہ طریقہ غلط اور خلاف شرع ہے ایسی آمدنی بھی حرام ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔