الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اخلاق بلا عبادات اور عبادات بلا اخلاق کا تقابل

سوال

ایک شخص مسلمان ہے از روئے عقیدہ پختہ حنفی المذہب ہے، قرآن پاک کی تلاوت مع ترجمه خوب کرتا ہے نیک خصلت ہے جھوٹ سے نفرت ہے معصیت و بداخلاقی سے محفوظ رہنے کی حتی الامکان بہت کوشش کرتا ہے یہاں تک کہ کوئی عادت رذیلہ نہ اس سے دیکھی گئی نہ سنی گئی مگر اصل چیز نماز روزہ سے غافل ہے یعنی تارک ہے۔ دوسرا شخص بھی مسلمان ہے پختہ حنفی ہے اصل چیز نماز روزہ میں چوکس ہے پیشانی پر نماز کے نشانات بھی موجود رہتے ہیں۔ ریش مبارک بھی ہے مرید بھی ہے خلافت بھی حاصل ہے مگر جھوٹ بہت بولتا ہے۔ جھوٹی گواہی دیتا ہے، یتیم کا مال خوب کھاتا ہے۔

جواب

نماز دین کا ستون ہے۔ جو شخص نماز کا تارک ہے وہ بہت بڑی معصیت میں مبتلا ہے حتی کہ اگر عمداً چھوڑ دے اور قضا کی نیت نہ ہو اور خوف عقاب بھی نہ ہو تو کفر تک نوبت پہونچ جاتی ہے، پھر ایسے شخص کو یہ کہنا کہ معصیت و بداخلاقی سے محفوظ رہنے کی حتی الامکان بہت کوشش کرتا ہے قرین قیاس نہیں۔ جہاں اس کو اللہ تعالیٰ نے اور اوصاف حسنہ جھوٹ سے نفرت وغیرہ دیئے ہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · اردو