فریق مخالف پر عدالت کے خرچہ کا دعویٰ کرنا
سوال
زید نے عمر پر فوجداری کا دعویٰ کر کے بلا قصور پھنسا دیا اور ہائیکورٹ تک عمر بری رہا، مگر پیروی میں اس کے اخراجات کثیر ہوئے، اور بدنامی اور زیر باری و بے آبروئی اور اپنے کاروبار کا نقصان عظیم ہوا ابتدائی عدالت سے ہائی کورٹ تک مقدمہ چلا اور زید آگے بڑھتا رہا، عمر ہر عدالت سے بری ہوتا گیا، چونکہ عمر نہایت درجہ زیر بار اور بے آبرو ہوا اور مالی نقصان اٹھایا اور روحانی و جسمانی اذیت پائی تو اگر عمر اپنی ہتک عزت و روحانی و جسمانی اذیت اور نقصانات کا دعوی کسی رقم کا جو مناسب حال ہو دائر کرے تو شرعاً جائز ہے یا ناجائز اگر…
جواب
غلط دعوی کی جوابدہی میں جس قدر خرچ ہو وہ سب وصول کرنا درست ہے، جسمانی و روحانی اذیت اور بے آبروئی کا کوئی مالی ضمان نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔