الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

خرچہ مقدمہ مدعیٰ علیہ سے وصول کرنا

سوال

ایک قطعہ زمین کو زید، بکر، خالد و غیرہ نے مشتر کہ خرید کی خرید کردہ زمین کا کچھ حصہ باقی بچ رہا تھا زید نے عمر (جو کہ ان شرکاء مذکورہ میں سے ہے) سے کہا کہ اس بقیہ جز کو تم لے لو تا کہ پورا قطعہ ہم لوگوں کی خریداری میں آجائے، عمر نے کہا کہ کچھ ضرورت نہیں ہے، اور نہ میرے پاس روپیہ ہے، زید نے کہا کہ روپیہ میں دونگا تم اپنے نام لکھوالو۔

جواب

زید نے عمر کو جو روپیہ دیا ہے، وہ روپیہ قرض ہے اور زمین عمر نے خریدی ہے، (اگرچہ روپیہ زید سے قرض لے کر دیا ہے) لہذا عمر زمین کا مالک ہے، اور جس قدر روپیہ عمر نے قرض لیا ہے، وہ واجب الاداء ہے، اور اگر عمر کے پاس فی الحال ادائیگی کے لئے روپیہ موجود نہیں تو زید کو چاہئے کہ عمر کو مہلت دے لقوله تعالى وان كان ذو عسرة فنظرة الى ميسرة، تاہم زید کو مطالبہ کا حق ہر وقت حاصل ہے، اگر عمر…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو